بسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیمبسم اللہ الرحمن الرحیم
Responsive Ads Here
یہ کیا ہے
good
دسمبر 02, 2018
یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہ کیا ہے
ajlas
good
نومبر 23, 2018
دنیا میں دعوت اسلام کی سب سے بڑی تحریک ’’عالمی تبلیغی جماعت‘‘ کے امیر مولانا حاجی عبد الوہابؒ 96 برس کی عمر پا کر آج خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں،انتہائی سادہ اور حقیقی معنوں میں اللہ کے ولی کہلانے والے مولانا حاجی عبد الوہابؒ تبلیغی جماعت کے مرکز رائے ونڈ کے بانیوں میں سے تھے ،ان کی ذات سادگی ، عجز و انکساری ،دین سے محبت اور تبلیغ اسلام کے لئے اپنے گھروں سے نکلنے والوں کے لئے ایسا بے مثل نمونہ تھی کہ موجودہ دور میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے،معروف صحافی خالد شہزاد فاروقی نے مولانا حاجی عبد الوہابؒ کی زندگی کے بارے میں ایسا انکشاف کیا ہے کہ جان کر ہر کوئی تبلیغی جماعت کے امیر کی عظمت کا قائل ہو جائے گا اور عش عش کر اٹھے گا ۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی خالد شہزاد فاروقی کا کہنا ہے کہ یہ غالبا 1992 کی بات ہے کہ انہیں تبلیغی جماعت کے ساتھ کچھ وقت لگانے کا موقع ملا ،ہماری 11 رکنی جماعت میں نشتر میڈیل کالج ملتان کے 7 نوجوان ڈاکٹر تھے جبکہ 4 لڑکے پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے ۔ہم تشکیل کے لئے رائے ونڈ مرکز میں موجود تھے ، تبلیغی مرکز میں مولانا حاجی عبد الوہابؒ اور مولانا جمشید علی خانؒ سمیت دیگر اکابر علما کے بیانات سننے کے بعد جب رات گئے ہم سو گئے تو رات کے پچھلے پہر تہجد سے کچھ دیر پہلے میری اچانک آنکھ کھل گئی ، میں قضائے حاجت اور وضو کے لئے گیا تو آگے کا منظر دیکھ کر دم بخود رہ گیا ،ایک بزرگ ہاتھ میں لوٹا اور جھاڑو اٹھائے مرکز میں قطار اندر قطار بنی ہوئے ایک ایک بیت الخلا (واش رومز ) کی صفائی کر رہا ہے،میں نے جب غور سے دیکھا تو بیت الخلا کی صفائی کرنے والا بزرگ کوئی اور نہیں بلکہ مولانا حاجی عبد الوہابؒ تھے ۔تبلیغی جماعت کے سب سے بڑے رہنما اور بزرگ شخص کی عاجزی ،انکساری اور اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کی اس انداز میں خدمت کے جذبے نے مجھے حیران کر دیا ،میں نے تعظیما آگے بڑھ کر ان سے جھاڑو پکڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ حضرت مجھے دے دیں میں صفائی کر دیتا ہوں لیکن انہوں نے شفقت کے ساتھ مسکراتے ہوئے مجھے منع کر دیا ۔مرکز میں موجود بزرگوں کا کہنا تھا کہ یہ عمل تو مولانا عبد الوہابؒ کے روز کا معمول ہے
ایڈ2
Responsive Ads Here
